Take a fresh look at your lifestyle.

مضامین قرآن (03) ۔ ابو یحییٰ

قرآن مجید کے مضامین کے ضمن میں ہم نے یہ دیکھا تھا کہ بنیادی طور پر تین ہی اصل مضامین ہیں جو قرآن مجید میں زیر بحث آئے ہیں۔ یہ تین بنیادی مضامین درج ذیل ہیں :

۱)دعوت دین اور اس کے رد و قبول کے نتائج
۲)دعوت کے دلائل
۳)مطالبات

اس کے بعد ہم نے ان تین مضامین کے تحت بیان ہونے والے ضمنی مضامین کا مختصر تعارف کرانا شروع کیا تھا۔ ہم نے دعوت کے دلائل سے گفتگو کا آغاز کیا تھا اور توحید کے پانچ اور رسالت کے ان سات دلائل کا جائزہ لیا تھا جو بالعموم قرآن مجید میں زیر بحث آئے ہیں۔ آج پہلے آخرت کے دلائل بیان کرکے دعوت کے دلائل کا تعارف مکمل کیا جائے گا۔ پھر دعوت دین اور اس کے رد و قبول کے نتائج اور مطالبات کے ضمن میں آنے والے ذیلی مضامین کا مختصر جائزہ پیش کیا جائے گا۔ جس کے بعد انشاء اللہ ایک ایک کرکے ان تمام مضامین کو لیا جائے گا اور قرآن مجید کے نظائر اور آیات کی مدد سے ہر مضمون کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کا سلسلہ شروع ہوگا۔ تاہم جیسا کہ بیان ہوا، آج قرآن کریم کے مضامین کا اجمالی خاکہ بیان کرنے کا عمل پورا ہوجائے گا۔

آخرت کے دلائل

رسالت کے سات دلائل کی طرح آخرت کے بھی سات دلائل قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ درج ذیل ہیں۔

۱) فطرت کی دلیل

انسانی فطرت میں خیر و شر کا شعور، ضمیر انسانی کی سزا و جزا کا نظام شاہد ہے کہ انسان سزا و جزا کے تصور سے اچھی طرح واقف ہے اور سمجھتا ہے کہ ایک دن حتمی سزا جزا کا یوم قیامت آکر رہے گا۔

۲) ربوبیت کی دلیل

یہ دلیل توحید کے ضمن میں بھی آئی ہے۔ یہاں جو استدلال ہے اس میں آخرت کے پہلو سے صرف یہ اضافہ ہے کہ جب ربوبیت کا اہتمام کیا گیا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ربوبیت کے آثار دیکھ کر بھی بندگی سے انکار کرنے والوں کو ان کے کیے کی سزا نہ دی جائے اور بندگی کرنے والوں کو ان کے اجر سے محروم رکھا جائے۔

۳) مقصدیت کی دلیل

تصور آخرت کو ہٹادیا جائے تو پھر اس دنیا کو بسانے کا کوئی مقصد باقی نہیں رہتا۔ خاص اس حقیقت کے مشاہدے کے بعد کہ انتہائی بامعنی اور منظم کائنات میں انسانی زندگی ہر جگہ ظلم و ناانصافی اور عدم تکمیل سے عبارت ہے۔ اگر یہ دنیا اور اس کی موت ہی انسانی زندگی کا خاتمہ ہے تو اس سے زیادہ بے مقصد اور بے معنی بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ اس بات سے پاک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے اور آخرت دار الجزا۔ یہی اس دنیا کا مقصد ہے جو آخرت سے مل کر پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔

۴) جوڑے کی دلیل

دنیا و آخرت کے جوڑے کے وجود کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر بامعنی چیز جوڑوں میں بنائی گئی ہے۔ مرد عورت، دن رات، زمین آسمان سب جوڑے ہیں جو خالق کا طریقہ تخلیق بتاتے ہیں۔ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ دنیا کا جوڑا آخرت ہے۔

۵) ترتیب و تدریج

جوڑے بعض اوقات ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں جیسے مرد و عورت اور بعض اوقات ایک کے بعد ایک آتے ہیں۔ جیسے دن کے وقت رات نہیں ہوتی مگر ایک تدریجی عمل سے پہلے دن ختم ہوتا ہے اور پھر رات آتی ہے۔ یہی مثال دنیا اور آخرت کے جوڑے کی ہے۔ دنیا کے بعد آخرت اسی طرح بالیقین آئے گی جیسے دن کے بعد رات آتی اور شب کی سیاہی کے بعد صبح کی روشنی طلوع ہوتی ہے۔ کائنات میں اِس ترتیب ہی کی نہیں بلکہ اس تدریج کی بھی مثالیں ہیں جس سے گزر کر قیامت آئے گی۔ چاند کا درجہ بدرجہ ہلال سے بدر کامل بننا، شفق کا بتدریج اندھیرے میں ڈھلنا اس تدریج کی مثالیں ہیں۔ یہی یوم آخرت کی تدریجی آمد کا بدیہی نشان ہے۔

۶) قدرت کی دلیل

دلیل قدرت کے کئی پہلو ہیں۔

۱)انسان کی تخلیق اول سے ثانی پر استدلال : یہ اعتراض کا جواب بھی ہے اور اپنے اندر دلیل بھی۔ کفار کا اعتراض یہ تھا کہ مردہ ہڈیوں کو کیسے زندہ کیا جائے گا۔ جواب دیا گیا کہ وہی جس نے پہلی دفعہ پیدا کیا۔ ظاہر ہے پہلی دفعہ پیدا کرنا زیادہ مشکل تھا۔ جب وہ ہوسکتا ہے تو دوبارہ بھی سب کو پیدا کیا جاسکتاہے۔

۲) زمین وآسمان کی پیدائش : زمین و آسمان کی تخلیق خدا کی اس خلاقیت کا اظہار ہے جس کی کوئی حد و حساب نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ زمین وآسمان جیسی بڑی چیزیں پیدا کرسکتے ہیں تو وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں عاجز رہ سکتے ہیں۔

۳) چیزوں کے عدم و ظہور اور مجازی موت کے بعد دوبارہ زندگی سے استدلال : کائنات میں ان گنت نشانیاں ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہاں اشیا بظاہر فنا کا لبادہ اوڑھ کر نظر سے اوجھل ہوتی ہیں، مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ دوبارہ زندگی کے قالب میں ڈھل جاتی ہیں۔ مثلا بارش کے بعد مردہ زمین کا جی اٹھنا اور سبزے کو اگادینا۔ سورج کا ڈوبنا اور دوبارہ نکلنا۔ انسان کا سونا اور دوبارہ جاگنا۔ اس کے علاوہ بعض تاریخی واقعات جو انسانوں سے متعلق ہیں جیسے اصحاب کہف کا دوبارہ جی اٹھنا وغیرہ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کاملہ کے گواہ ہیں کہ وہ جب چاہے مردوں کو زندہ کردے۔

۴) نگرانی و علم : حیات بعد ممات میں حساب کتاب کے لیے جس ریکارڈ کی ضرورت ہوگی اللہ کی قدرت اس کا مستقل اہتمام کررہی ہے۔ فرشتوں کا ریکارڈ اور ان کی نگرانی کا عمل، کراما کاتبین کی گواہی، نیز وجود انسانی کا مکمل ریکارڈ رکھنے کی قدرت کی بنا پر اللہ اس بات پر مکمل طور پر قادر ہیں کہ مردوں کو زندہ کرکے ان کا مکمل اور جامع احتساب کریں۔

۷) رسولوں کی امت کی سزاجزا

قیامت کی سب سے بڑی دلیل رسولوں کی امتوں کی وہ سزا جزا ہے جو اسی دنیا میں برپا ہوتی ہے۔ یہ سزا جزا حضرت نوح سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر اس قوم کے لیے برپا ہوئی جس میں اللہ کے رسول آئے۔ قرآن میں سابقہ امم کی دینونت یا سزا جزا کے واقعات سناکر کفار مکہ کو تنبیہ کی گئی کہ ان کے ساتھ بھی یہ ہوکر رہے گا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ واقعہ پیش گوئیوں کے عین مطابق ہوگیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹھیک اسی طرح اب قیامت کے دن وہ سزا جزا برپا ہوگی جس کی پیش گوئی قرآن میں کی گئی ہے۔

دعوت اور اس کے رد و قبول کے نتائج

دعوت کے دلائل کے بعد دوسرا بنیادی مضمون جو قرآن کریم میں زیر بحث آتا ہے وہ دعوت دین اور اس کے رد و قبول کے نتائج ہیں۔ اصولاً تو یہی قرآن کا بنیادی موضوع ہے اور یہی سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔ اسی لیے ہم نے اسے ترتیب میں سب سے پہلے رکھا تھا، تاہم بعض دلائل سے بالعموم لوگ واقف نہیں اور نہ اس پر بہت زیادہ کام ہوا ہے، اسی لیے ہم نے ان کو پہلے بیان کردیا تھا۔ یہ موضوع تین ذیلی موضوعات پر مشتمل ہے:

۱) دین کی بنیادی دعوت
۲) دعوت کا ابلاغ
۳) دعوت کو ماننے اور رد کرنے کے نتائج

ہم ایک ایک کرکے اب ان پر مختصر گفتگو کریں گے اور ان کے ذیلی مضامین بیان کریں گے۔ ان پر تفصیل بحث انشاء اللہ اپنے وقت پر کی جائے گی۔

۱) دین کی بنیادی دعوت

دین کی بنیادی دعوت ایک اللہ پر ایمان ہے۔ یہی قرآن مجید کا سب سے اہم اور بنیادی مضمون ہے جس کے ذیلی مضامین درج ذیل ہیں۔

الف) ذات :

اس ذیل کا پہلا مضمون ذات باری تعالیٰ کا وجود، اس کا درست تصور، اس کی بندگی کی دعوت اس کی وحدانیت پر ایمان ہے۔

ب) صفات :

ذات باری تعالیٰ کے ساتھ ہر جگہ زیر بحث آنے والی چیز صفات باری تعالیٰ ہیں۔ یہی وہ اصل مقام ہے جہاں ذات حق مخلوقات سے متعلق ہوتی ہے۔ یہ صفات تین اقسام کی ہیں:

الف) صفات جلال
ب) صفات جمال
ج) صفات کمال

ج) سنن :

سنن میں قرآن مجید یہ بیان کرتا ہے کہ فرد اور اقوام کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی ہستی کس طرح معاملہ کرتی ہے۔ یہ معاملہ الل ٹپ نہیں ہوتا بلکہ ایک متعین قانون کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ ان کو سنن الہی کہتے ہیں۔ ان کو اگر سمجھ لیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ زندگی میں ہم کیا کریں گے تو جواب میں اللہ تعالیٰ کیا کریں گے۔ یہ بات اگر سمجھ آجائے بلاشبہ انسان فرد و اجمتاع دونوں شکلوں میں ترقی و کامرانی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔

۲) دعوت کا ابلاغ

یہ اس ضمن کا دوسرا اہم موضوع ہے۔ اس میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے مکالمہ و مخاطبت کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس ضمن میں جو مضامین زیر بحث آتے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔

۱) منصب نبوت و رسالت :

اس میں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ کسی انسان کی یہ حیثیت نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے دعوت دینے کے لیے خود شرف مخاطبت عطا کریں۔ اس مقصد کے لیے انسانوں ہی میں سے کچھ اعلیٰ ترین شخصیات کو اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت کی بنیاد پر چن لیتے ہیں اور انہیں یہ فریضہ سونپتے ہیں کہ وہ انسانوں پر اللہ تعالیٰ کا پیغام اس طرح واضح کردیں کہ قیامت کے دن انسان یہ عذر نہ پیش کرسکیں کہ ان تک ہدایت نہیں پہنچ سکی۔ چنانچہ سابقہ انبیا کے واقعات اور خاص طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے مخاطبین سے ہونے والا مکالمہ بہت تفصیل کے ساتھ قرآن مجید میں زیر بحث آیا ہے۔

۲) فرشتے :

ان انبیا پر عام طور پر فرشتوں کے ذریعے سے وحی کی جاتی ہے اور یہ فرشتے ہر طرح کی شیطانی آلائش سے پاک رکھتے ہوئے اس پیغام کو اللہ کے پیغمبروں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ فرشتے وہ کارکنان قضا و قدر بھی ہیں جو کائنات کا سارا تکوینی نظام اذن الہی سے چلا رہے ہیں۔ نیز مشرکین ان فرشتوں کو خدائی میں شریک سمجھتے تھے۔ اس بات کی تردید اور فرشتوں کا اصل کام، ان کے مکالمات اور کردار وغیرہ تفصیل سے قرآن مجید میں زیر بحث آئے ہیں۔

۳) کلام الہی اور کتابیں :

یہ کلام الہی صحیفوں اور کتابوں کی شکل میں باقی انسانوں کی ہدایت کے لیے محفوظ کردیا جاتا ہے۔ تاکہ آنے والی نسلیں ان سے استفادہ کرسکیں۔ ختم نبوت کے بعد یہ کلام الہی قرآن مجید کی شکل میں تاقیامت انسانو ں کے لیے محفوظ اور ہر طرح کی تحریف سے پاک کردیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں جابجا تورات، زبور، انجیل اور دیگر صحائف کے حوالے اور تفصیلات زیر بحث آتی ہیں۔

۳) دعوت کو ماننے اور رد کرنے کے نتائج

یہ اس سزا و جزا کا بیان ہے جو انبیا کی دعوت کو رد کرنے یا ماننے کی شکل میں روز قیامت ملے گی۔ رسولوں کے ضمن میں اس کا ایک نمونہ اسی دنیا میں قائم کردیا گیا ہے۔ ان اقوام کے قصے اسی پہلو سے قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں۔ جبکہ اپنی کامل شکل میں یہ سزا جزا کل انسانیت کے لیے روز قیامت برپا ہوگی۔ اس سے ذیلی مضامین درج ذیل ہیں جن میں سے ہر ایک پر بہت تفصیل کے ساتھ قرآن مجید میں گفتگو کی گئی ہے۔

ا) موت اور برزخ
۲) احوال قیامت
۳) سزا جزا کے مقامات یعنی حشر، جنت، جہنم
۳) مطالبات

یہ آخری موضوع ہے۔ اور ایک فرد کی نسبت سے یہی اہم ترین ہے۔ کیونکہ اس میں اسے بتایا جاتا ہے کہ اس سے کیا مطلوب ہے۔ اس کے ذیلی مضامین درج ذیل ہیں

۱)اخلاقی مطالبات

ان کی تین اقسام ہیں

الف) اللہ تعالیٰ کے حوالے سے عائد کردہ مطالبات
ب) سماج اور اس کے مختلف طبقات کے حوالے سے عائد کردہ ذمہ داریاں
ج) نوع انسانی کے دو بنیادی اجزا یعنی مرد و زن کے لحاظ سے عائد مطالبات

۲)شرعی یا قانونی مطالبات

یہ وہ مطالبات ہیں جن میں باقاعدہ قانون سازی کرکے وقت، دن، تعداد اور دیگر ضابطے متعین کردیے گئے ہیں۔ اس کی دو ذیلی قسمیں ہیں۔

الف) فرد پر عائد شرعی ذمہ داریاں
ب) سماج اور ریاست پر عائد قانوی ذمہ داریاں

۳)شخصی رویے

اس میں ان رویوں کا بیان ہے جن کو شریعت نے موضوع بنایا ہے نہ وہ اخلاقیات کے ذیل میں آتے ہیں۔ مگر وہ انسانی نفسیات کی تشکیل میں اس طرح حصہ لیتے ہیں کہ ان کی سمت درست نہ کی جائے تو وہ ہر طرح کا اخلاقی اور قانونی فساد برپا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہ رویے براہ راست نہیں بالواسطہ طور پر قرآن مجید میں زیر بحث آئے ہیں۔