Take a fresh look at your lifestyle.

غزل پروین سلطانہ حنا

پروین سلطانہ حنا
غزل
ساتھ اپنے بندوں کے گر خدا نہیں ہوتا
زندگی کو جینے کا حوصلہ نہیں ہوتا
زخمِ آگہی نے تو، پرَ مرے جلا ڈالے
اب اڑان بھرنے کا، حوصلہ نہیں ہوتا
اِک جہان بستا ہے سوچ کے سمندر میں
شہرِ جاں کا موسم تو بے صدا نہیں ہوتا
عشق کے سمندر میں ڈوبنے کا غم کیسا؟
ڈوب جانے والا بھی نارسا نہیں ہوتا
آپ پاس آئیں تو گفتگو بہم ہو گی
فاصلوں کی صورت میں فیصلہ نہیں ہوتا
اُس نے ساتھ چھوڑا تو، ہو گی کوئی مجبوری
کیا کوئی زمانے میں بے وفا نہیں ہوتا؟
تاجدارِ عالم کی پیروی میں جیتی ہوں
اِس لیے تو لوگوں سے کچھ گلہ نہیں ہوتا
وقت کے شہنشاہ تھے، آئے اور گئے آخر
آدمی تو فانی ہے وہ خدا نہیں ہوتا
بادشاہ زادہ ہو، یا فقیر کا بیٹا
عدْل سے تو کوئی بھی ماوَرا نہیں ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔