Take a fresh look at your lifestyle.

قرآن مجید میں حذف کا اسلوب ۔ ابویحییٰ

 سوال:
سر مجھ پر اس آیت (رعد31:13) کا مفہوم واضح نہیں ہورہا۔
’’ اگر کوئی قرآن ایسا ہے جس سے پہاڑ چلائے جاتے یا اس سے زمین شق کی جاتی یا اس سے مردے بلوائے جاتے (تو وہ یہی قرآن ہے)۔ تاہم اختیار تو سب اللہ ہی کا ہے۔‘‘

جواب:
محترمی جاذبہ سحر صاحبہ
السلام علیکم ورحمت اللہ و برکاتہ
قرآن مجید زبان و بیان کے اعتبار سے ایک معجزہ اور بلاغت کا ایک شاہکار ہے۔ بلاغت کا ایک پہلو یہ ہوتا ہے کہ جو بات مخاطب پر بالکل واضح ہو اور سیاق و سباق کی بنا پر جس کا سمجھنا کسی ذہین قاری کے لیے کچھ مشکل نہ ہو اسے بیان نہیں کرنا چاہیے۔ یوں کم سے کم الفاظ میں نہ صرف مدعا بیان ہوجاتا ہے بلکہ اس حذف کو کھولنے کے لیے جب مخاطب اور قاری اس بارے میں خاص طور پر سوچتا ہے تو اس کی تمام تر توجہ اسی سمت میں مبذول ہوجاتی ہے جس کی طرف متکلم نے توجہ دلانا چاہی تھی۔ یعنی کمال یہ ہوتا ہے کہ نہ بول کر وہ کہہ دیا جاتا ہے جو بیان کرکے بھی اس طرح قابل توجہ نہ ہوتا۔ یہ حذف کا اسلوب کہلاتا ہے جس میں جملہ بظاہر ادھورا نظر آتا ہے مگر بات کمال بلاغت کے ساتھ مخاطب تک پہنچ جاتی ہے۔

اس اسلوب کی ایک مثال سورہ رعد(13) کی آیت نمبر31 ہے جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یوں ہے۔
’’اور اگر ایسا قرآن اترتا جس سے پہاڑ چلنے لگتے، یا اس سے زمین ٹکڑے ہوجاتی یا اس سے مردے بولنے لگتے۔ بلکہ سارا اختیار اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘

اس سادہ ترجمے کے ساتھ یہ آیت بظاہر ایک ناقابل فہم اور نامکمل بات بیان کرتی ہے۔ آیت ’اگر‘ کے شرطیہ لفظ سے شروع تو ہوتی ہے، مگر جملے میں جواب شرط کہیں موجود نہیں۔ مثلاً اردو میں ہم کہتے ہیں اگر تم محنت کرو گے تو تب ہی امتحان میں کامیاب ہوگے۔ اس جملے میں ’’تب ہی‘‘ اور اس کے بعد کا جملہ ہٹادیا جائے تو یہ ایک نامکمل بات رہ جائے گی۔ اگر سے شروع ہونے والے ہر جملے کا معاملہ یہی ہوتا ہے۔ یہی قرآن مجید کی اس آیت میں بھی ہوا ہے۔ اس لیے زبان و بیان کا ذوق رکھنے والا ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس شرطیہ جملے کے جواب میں جو کچھ آنا چاہیے تھا وہ حذف کردیا گیا ہے۔

اس آیت کا جو ترجمہ آپ نے ارسال کیا ہے اور جس کی بنا پر یہ آیت آپ کے لیے ناقابل فہم بن گئی ہے وہ اس حذف کو غلط طور پر کھولنا ہے۔ آپ نے یہ حذف غلط طور پر کھولا ہے کہ اگر کوئی قرآن ایسا ہے جس سے پہاڑ چلائے جاتے یا اس سے زمین شق کی جاتی یا اس سے مردے بلوائے جاتے(تو وہ یہی قرآن ہے)۔ یہ اضافہ بالکل غیر متعلق اور خلاف واقعہ ہے۔ قرآن مجید کے نزول کے ساتھ اگر یہ سارے مطالبات دکھائے جارہے ہوتے تو کفار کا نشانی لانے کا مطالبہ ہی دم توڑجاتا۔ آیت کے اگلے الفاظ یعنی سارا اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، صریح طور پر یہ بتارہے ہیں کہ یہ معجزات دکھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں ہے نہ انہوں نے دکھائے۔

اس حذف کو درست طور پر کھولنے کے لیے ضروری ہے کہ قاری قرآن مجید کی اس آیت کو اس کے سیاق و سباق میں رکھ کر پڑھے۔ جب ایسا کیا جائے گا تو محذوف جملہ بالکل واضح ہوکر سامنے آجائے گا۔ جیسا کہ اس آیت کا سیاق و سباق اور سورت کا نظم یہ بتاتا ہے کہ زیر بحث معاملہ یہ ہے کہ کفار مکہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں قرآن مجید کی ہدایت سے روشنی حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ عقل و فطرت کی کوئی دلیل بھی ماننا نہیں چاہتے بلکہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صداقت کے نشان کے طور پر ان کو کوئی معجزہ دکھائیں (آیت 7،27)۔ اس آیت سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے تمھیں ایک ایسی امت میں بھیجا ہے جس سے پہلے بھی کئی امتیں گزرچکی ہیں۔ قرآن مجید کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ پچھلی امتوں میں جب ان کے رسول آئے اور انہیں دعوت حق دی تو انہوں نے بھی ان کفار کی طرح نت نئے معجزات طلب کرنا شروع کردیے تھے۔ ان اقوام کی فرمائش پر جب انہیں مطالبات دیے گئے تو انہوں نے ان معجزات کودیکھنے کے باوجود ایمان لانے سے انکار کردیا۔ مثال کے طور پر قوم ثمود کی فرمائش پر ایک اونٹنی کو معجزانہ طریقے پر پیدا کیا گیا، مگر انہوں نے ماننے کے بجائے اس اونٹنی ہی کو مارڈالا۔

چنانچہ اس پس منظر میں درست ترجمہ یہ ہوگا:
’’ اگر کوئی قرآن ایسا اترتا جس سے پہاڑ چلائے جاتے یا اس سے زمین شق کی جاتی یا اس سے مردے بلوائے جاتے (تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے)۔ تاہم اختیار تو سب اللہ ہی کا ہے۔‘‘

دیکھ لیجیے کہ نہ صرف بات بالکل واضح ہے بلکہ کمال بلاغت کے ساتھ اپنے مخاطبین تک وہ بات پہنچارہی ہے جو ان تک پہنچنی چاہیے۔ یہ ذہن میں رہے کہ اس آیت کے مخاطب اہل ایمان ہیں جن کا خیال تھا کہ اگر کوئی نشانی دکھائی جائے تو شاید یہ کفار ایمان لے آئیں۔ مگر حذف کے اس اسلوب میں ان تک یہ بات پوری بلاغت کے ساتھ پہنچادی گئی کہ کوئی معجزہ بھی دکھایا جائے یہ کفار ماننے والے نہیں ہیں۔ چنانچہ آیت کے اگلے حصے میں یہ بات بالکل کھول دی گئی۔ ارشاد ہوا:
’’کیا ایمان لانے والوں کو اس بات سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو سب ہی کو ہدایت پر کردیتا۔‘‘
امید ہے بات واضح ہوگئی ہوگی۔
(ابویحییٰ)