Take a fresh look at your lifestyle.

مضامین قرآن (69) اخلاقی طور پر مطلوب و غیر مطلوب رویے : فواحش اور حفظ فروج ۔ ابویحییٰ

اخلاقی مطالبات کے ضمن میں ہم قرآن مجید میں بیان کردہ جامع اصطلاحات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک بہت اہم اصطلاح فواحش ہے جس سے پرہیز کا حکم قرآن مجید میں دیا گیا ہے۔ اس سلبی حکم کو قرآن مجید نے حفظ فروج کی مثبت اصطلاح کے استعمال سے مزید موکد کیا ہے اور اسے مومن مرد اور عورتوں کے ایک اعلیٰ ایمانی وصف کے طور پر بیان کیا ہے۔ قرآن مجید کے عمومی اخلاقی احکام عام طور پر خدا یا بندوں کے ساتھ درست تعلق کی اساسات کو بیان کرتے ہیں۔ لیکن حفظ فروج خاص مرد و زن کے خاص تعلق کے پس منظر میں بیان کی گئی ایک اعلیٰ اخلاقی قدر ہے جو نہ صرف ایک پاکیزہ معاشرت کو جنم دیتی ہے، بلکہ اس خاندانی نظام کی بقا اور استحکام کی ضامن ہے جس پر پوری انسانی معاشرت موقوف ہے۔ ذیل میں ہم پہلے فواحش سے اجتناب کے حکم کی وضاحت کریں گے اور پھر حفظ فروج کی اصطلاح کی تفصیل کریں گے۔
فواحش سے پرہیز
جنس ایک بنیادی انسانی جبلت ہے۔ یہ جبلت جب میاں بیوی کے درمیان نکاح کی مستقل اور علانیہ رفاقت کی شکل میں اپنی تسکین کرتی ہے تو معاشرے میں خیر کا باعث بنتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اولاد اور پھر خاندان کا ادارہ وجود میں آتاہے۔ یہی وہ خاندان ہے جو معصوم بچوں کی جنم بھومی، ان کی تربیت گاہ اور بلوغت کی عمر کو پہنچنے تک ان کی تمام ضروریات کی فراہمی کا ضامن ہوتا ہے۔ یہی وہ ادارہ ہے جو انسانی زندگی کے دوسرے دورِ ناتوانی یعنی بڑھاپے میں ہمیشہ سے اس کی جائے پناہ رہا ہے۔ یہ خاندان ہی ہے جو بزرگوں کی موت تک ان کی تمام ذمہ داریوں کو اٹھاتا ہے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں انسانی معاشروں نے ہر دور میں میاں بیوی کے تعلق سے باہر جنسی جبلت کی تسکین کی ہر کوشش کی حوصلہ شکنی ہے۔ اسے بے راہ روی، بے حیائی اور بدکاری سے تعبیر کرکے اسے ہمیشہ ایک برا عمل سمجھا ہے۔ قرآن مجید نے انسانی معاشروں میں پائے جانے والے جنسی بے راہ روی کے اس تصور کو اٹھایا اور اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ یہ شیطان کی تعلیم ہے جس کا خدا کی عطا کردہ تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں چاہے اسے مذہب کے نام پر اختیار کیا جائے۔ پروردگار عالم نے جو بنیادی عبادت یعنی نماز فرض کی ہے، اس کا تو ایک اہم وصف یہی ہے کہ وہ انسان کو ہر برائی اور جنسی بے راہ روی کی طرف بڑھنے سے روکتی ہے۔

قرآن مجید کے استعمال کردہ لفظ الفحشاء کے اندر یہ بات پوشیدہ ہے کہ جنسی بے راہ روی کے اس راستے کی قباحت بہت شدید بھی ہے اور انسانوں کے لیے معلوم و معروف بھی ہے۔ قرآن مجید نے بعض مقامات مثلاً (الاسراء32:17) میں زنا کے قریب جانے سے روکتے ہوئے بطور علت اس کا فاحشۃ ہونا بیان کیا ہے جس سے یہ بات واضح ہے کہ اس کا بے حیائی اور برائی ہونا ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ قرآن مجید نے زنا سے روکتے ہوئے فاحشۃ ہی لفظ استعمال نہیں کیا ہے بلکہ اس کی جمع یعنی فواحش استعمال کرکے اس بات کو واضح کیا ہے کہ زنا کے علاوہ بھی جنسی بے راہ روی کا دیگر ہر راستہ مثلاً ہم جنس پرستی ہو، جانوروں کے ساتھ بدفعلی وغیرہ سب ناجائز و حرام ہیں۔ قرآن نے ان چیزوں کی ممانعت میں لاتقربوا یعنی قریب نہ جاؤ کے الفاظ استعمال کرکے یہ واضح کیا ہے کہ ان سے بچنے کا راستہ یہی ہے کہ ان چیزوں سے بھی بچا جائے جو زنا میں مبتلا کرسکتی ہوں کیونکہ جنسی بے راہ روی ایک مقناطیس کی طرح کام کرتی ہے۔ ایک دفعہ کوئی اس کی کشش کے دائرے میں داخل ہوجائے تو پھر یہ خود بخود اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔

فواحش سے اجتناب کے ضمن میں اس بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ انسان کو کھلے اور چھپے ہر فواحش سے بچنا ہے۔ اس وضاحت کی ضرورت اس لیے ضروری ہے کہ عام انسانی معاشروں میں زنا کا علانیہ ارتکاب کرنے والے کم ہی لوگ ہوتے ہیں کیونکہ اسے ایک بری چیز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن زمانے کی نگاہ سے چھپ کر زنا کرنا اور خفیہ مراسم کی شکل میں بدکاری کو اختیار کرنا نسبتاً ایک آسان اور محفوظ راستہ ہے۔ چناچہ فواحش کی ان دونوں شکلوں کو یکساں طور پر حرام کر دیا گیا ہے۔ اگر کوئی مرد یا عورت خفیہ طور پر کسی جنسی تعلق یا علانیہ بدکاری کے معاملے میں ملوث ہوں تو پاکدامن لوگوں کو ایسے بدکاروں سے نکاح سے پرہیز کرنا چاہیے۔

حفظ فروج
فواحش سے اجتناب کے حکم کے ساتھ قرآن مجید میں حفظ فروج کا ایک تصور دیا گیا ہے جو انسان کو زنا سے بچا کر عفت و پاکدامنی کی زندگی گزارنے میں مدد دیتا ہے۔ حفظ فروج کا لفظی مطلب تو شرمگاہوں کی حفاظت ہے، مگر قرآن مجید نے اس ترکیب کو جس طرح استعمال کیا ہے وہ نہ صرف خود اپنے آپ کے زنا سے بچانے کے مفہوم کو بیان کرتی ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ کسی انسان کے سامنے اپنی صنفی خصوصیات کو نمایاں کرنے کے بجائے نوع انسانی کے ایک فرد کے طور پر پیش کرنے کے تصور پر بھی دلالت کرتی ہے۔ یہ گویا انسان کے اس کردار کا بھی بیان ہے جس میں انسان خود کو زنا اور اس کے داعیات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور ساتھ میں انسان صنف مخالف کے لیے ایک آزمائش کی صورتحال پیدا کرنے سے بھی پرہیز کرتا ہے۔

انسان کا معاملہ یہ ہے کہ عام طور پر ہر مرد و عورت نہ صرف صنف مخالف میں کشش محسوس کرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ وہ جسمانی خدوخال کی بنا پر دوسروں کے لیے باعث کشش بھی ہوتا ہے۔ ایسے میں حفظ فروج کا قرآنی تصور ہمیں بتاتا ہے کہ اہل ایمان میاں بیوی کے جائز تعلق کے سوا کسی ناجائز راستے سے اپنی جنسی تسکین نہیں کرتے۔ کسی مقام پر دونوں اصناف کا سامنا ہو تو ایسے لباس کا اہتمام کیا جائے جو جنسی کشش کو ڈھانپ دینے والا ہونا چاہیے۔ خواتین کا زیب و زینت اختیار کرنا صنف مخالف کے ذوق جمال اور اِن کے سینے کے ابھار اُن کے جنسی جذبات کے لیے اپیل رکھتا ہے۔ عرب کی معاشرت میں خواتین کے لباس کے گریبان بھی کھلے ہوتے تھے، اس لیے قرآن نے اجنبی مردوں کے سامنے خواتین کو زینتیں چھپا کر رکھنے اور گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں پھیلانے کا حکم بھی دیا ہے۔ مخفی زیورات کی آواز بھی نمایاں کرنے سے انھیں روکا گیا ہے۔ اس حکم میں البتہ عادتاً کھلے رہنے والا اعضا جیسے ہاتھ، منہ وغیرہ مستثنیٰ ہیں جن کی زینتیں رفع حرج کے اصول پر ظاہر کرنے کی اجازت ہے۔ جبکہ نکاح کی عمر سے گزر جانے والی بزرگ خواتین جن کی جنسی کشش ختم ہوچکی ہوتی ہے ان کو سینے کو اضافی کپڑے سے چھپانے کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم اگر انھوں نے زیورات پہن کر اپنی نمائش کر رکھی ہو پھر یہ اجازت نہیں ہے۔

قرآن مجید نے حفظ فروج کو مومن مرد اور عورتوں کے ایک مستقل اور اعلیٰ دینی وصف کے طور پر بیان کیا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مرد و زن کے اختلاط اور لباس کے معاملے میں انسانی معاشرت حالات، زمانے، جغرافیے، آب و ہوا، ثقافت اور رسوم و عادات کی بنا پر بہت کچھ بدل سکتی ہے، اس لیے جو اصولی بات قرآنی بیانات سے حفظ فروج کے حوالے سے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسے کردار کا بیان ہے جو صنف مخالف کی کشش کے باوجود زنا کے راستے پر قدم نہیں رکھتا دوسری طرف وہ اپنی جمالیاتی یا جسمانی کشش کو بھی صنف مخالف کے سامنے نمایاں کرنے سے رکتا ہے۔ اس میں سب سے اہم ذریعہ انسان کی بے لباسی، کم لباسی یا لباس کو اس طرح پہننا ہے کہ اس کی تنگی یا باریکی صنفی کشش کو پوری طرح نمایاں کر دے۔ اس کے علاوہ بھی کسی اور طریقے سے جنسی طور پر لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا، ان کی طرف مائل ہونا یا ان کی پیش قدمی کی حوصلہ افزائی کرنا وغیرہ سب وہ رویے ہیں جو حفظ فروج کے خلاف ہیں۔ سیدہ مریم کو اسی پاکدامنی کے ایک نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے جن کے امتحان کے لیے ایک فرشتہ ایک بھرپور مرد کی شکل میں ان کے سامنے آیا مگر انھوں نے جوانی کی پکار کو سننے کے بجائے خدائے رحمن کی پناہ لی۔ اسی طرح سیدنا یوسف کے واقعے میں یہ واضح کیا ہے کہ جو بندہ دوسرے کی پیش قدمی اور ڈگمگا دینے والے حالات کے باوجود اپنے جذبات کے بجائے خدا کی برہان اور فطرت کی آواز پر لبیک کہتا ہے، خدا آگے بڑھ کر اسے اس برائی سے بچا لیتا ہے۔

قرآنی بیانات
”شیطان تمھیں تنگ دستی سے ڈراتا اور (خرچ کے لیے) بے حیائی کی راہ سجھاتا ہے اور اللہ اپنی طرف سے تمھارے ساتھ مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔“،(البقرہ268:2)

”یہ لوگ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو اِسی طریقے پر پایا ہے اور خدا نے ہمیں اِسی کا حکم دیا ہے۔ اِن سے کہو، اللہ کبھی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر افترا کرکے ایسی باتیں کہتے ہو جنھیں تم نہیں جانتے؟“،(الاعراف 28:7)

”بے شک، اللہ (اِس میں) عدل اور احسان اور قرابت مندوں کو دیتے رہنے کی ہدایت کرتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے روکتا ہے۔وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو۔“،(النحل90:16)

”اُس کتاب کو پڑھتے رہو جو تمھاری طرف وحی کی گئی ہے اور نماز کا اہتمام رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ (یہ اللہ کی یاد ہے) اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی یاد بڑی چیز ہے۔ (تم اُس پر بھروسا رکھو، اِس لیے کہ) اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔“،(العنکبوت45:29)

”اِسی طرح لوط کو رسول بنا کر بھیجا، جب اُس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ کھلی بدکاری کے مرتکب ہوتے ہو۔ تم سے پہلے دنیا کی کسی قوم نے (اِس ڈھٹائی کے ساتھ اور اِس طرح قومی حیثیت میں) اِس کا ارتکاب نہیں کیا۔“،(العنکبوت28:29)

”اور فواحش کے قریب نہ جاؤ، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے۔ اور کسی جان کو، جسے اللہ نے حرام ٹھیرایا ہے، ناحق قتل نہ کرو۔ یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے تمھیں ہدایت کی ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔“،(الانعام151:6)

”(اے پیغمبر)، اپنے ماننے والوں کو ہدایت کرو کہ (اِن گھروں میں عورتیں ہوں تو) اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔

اور ماننے والی عورتوں کو ہدایت کرو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔ اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپ، اپنے شوہروں کے باپ، اپنے بیٹوں، اپنے شوہروں کے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنے بھائیوں کے بیٹوں، اپنی بہنوں کے بیٹوں، اپنے میل جول کی عورتوں اور اپنے غلاموں کے سامنے یا اُن زیردست مردوں کے سامنے جو عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے یا اُن بچوں کے سامنے جو عورتوں کی پردے کی چیزوں سے ابھی واقف نہیں ہوئے۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت معلوم ہو جائے۔ ایمان والو، (اب تک کی غلطیوں پر) سب مل کر اللہ سے رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔“،(النور30-31:24)

”اور بڑی بوڑھی عورتیں جو اب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، وہ اگر اپنے دوپٹے گریبانوں سے اتار دیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں۔ تاہم وہ بھی احتیاط کریں تو اُن کے لیے بہتر ہے اور اللہ سمیع وعلیم ہے۔“،(النور 60:24)

”اور اپنے آپ کو اُن سے پردے میں کرلیا تھا۔ پھر ہم نے اُس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا اور وہ اُس کے سامنے ایک پورے آدمی کی صورت میں نمودار ہوگیا۔
مریم (نے اُسے دیکھا تو) بول اٹھی کہ میں تم سے خداے رحمٰن کی پناہ میں آتی ہوں، اگر تم اُس سے ڈرنے والے ہو۔“،(مریم 17-18:19)

”اور عمران کی بیٹی مریم کی مثال پیش کرتا ہے جس نے اپنا دامن پاک رکھا۔ پھر ہم نے اُس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونک دی، اور اُس نے اپنے پروردگار کے ارشادات اور اُس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرماں بردار لوگوں میں سے تھی۔“،(التحریم12:66)

”حقیقت یہ ہے کہ اُس عورت نے تو یوسف کا ارادہ کر ہی لیا تھا، وہ بھی اگر اپنے پروردگار کی برہان نہ دیکھ لیتا تو اُس کا ارادہ کر لیتا۔ اِسی طرح ہوا تاکہ ہم اُس سے برائی اور بے حیائی کو دور رکھیں، اِس میں شبہ نہیں کہ وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھا۔“،(یوسف24:12)

”اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔“،(المومنون5:23)

”حقیقت یہ ہے کہ جو مرد اورجو عورتیں مسلمان ہیں، مومن ہیں، بندگی کرنے والے ہیں، سچے ہیں، صبر کرنے والے ہیں، اللہ کے آگے جھک کر رہنے والے ہیں، خیرات کرنے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے اُن کے لیے بھی مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔“،(الاحزاب35:33)

”اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی کے نکاح میں ہوں، الاّ یہ کہ وہ تمھاری ملکیت میں آجائیں۔ یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کی گئی ہے۔ اور اِن کے ماسوا جو عورتیں ہیں، (اُن کا مہر ادا کرکے) اپنے مال کے ذریعے سے اُنھیں حاصل کرنا تمھارے لیے حلال ہے، اِس شرط کے ساتھ کہ تم پاک دامن رہنے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے۔ پھر (اِس سے پہلے اگر مہر ادا نہیں کیا ہے تو) جو فائدہ اُن سے اٹھایا ہے، اُس کے صلے میں اُن کا مہر اُنھیں ادا کرو، ایک فرض کے طور پر۔ مہر ٹھیرانے کے بعد، البتہ آپس کی رضامندی سے جو کچھ طے کر لو تو اُس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ بے شک، اللہ علیم و حکیم ہے۔