Take a fresh look at your lifestyle.

اسلام اور لونڈیاں ۔ ابویحییٰ

مجھ  سے مختلف حوالوں سے بار بار یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اسلام میں لونڈیوں کا کیا تصور ہے۔ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں اگر ان کا ذکر آگیا ہے تو قرآن مجید کے احکام کی ابدی نوعیت کے پیش نظر ان سے تمتع کرنا (جنسی تعلق قائم کرنا) ابھی بھی جائز ہونا چاہیے۔ بلکہ عملی طور پر بہت سے لوگ آج بھی گھریلو خادماؤں سے یا بے سہارا لڑکیوں کو اپنے پاس رکھ کر اسی بنیاد پر ان سے تعلق قائم کرتے ہیں۔ اس کے ردعمل میں بعض حلقوں کی طرف سے یہ استدلال پیش کیا جاتا ہے کہ لونڈیاں بھی منکوحہ بیویاں ہی ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ قران مجید کے کئی بیانات اس بات کی باصراحت نفی کرتے ہیں اس لیے یہ استدلال بالکلیہ رد کر دیا جاتا ہے۔ آج انشاء اللہ میں اسی نوعیت کے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

دو قسم کے احکام
اس معاملے میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس حوالے سے بیان ہونے والے احکامات کی نوعیت کو درست طور پر سمجھا جاتا ہے نہ بیان کیا جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک قرآن مجید میں مرد و زن کے تعلق کے حوالے سے دو طرح کے احکام پائے جاتے ہیں۔ ایک احکام وہ ہیں جو نزول قرآن کے وقت رائج حالات کے پس منظر میں ہیں۔ دوسرے احکام وہ ہیں جو بطور ابدی شریعت کے دیئے گئے ہیں۔

پہلی قسم کے احکام وہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے معاشرے میں لونڈیوں کی موجودگی کے باوجود ان سے تمتع کرنے کی اجازت دی تھی۔ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ نزول قرآن کے وقت گھر گھر لونڈیاں موجود تھیں۔ مگر اس کے باوجود قرآن مجید جب نازل ہوا تو اس نے لوگوں کو میاں بیوی کا تعلق قائم کرنے سے نہیں روکا اور اس حوالے سے کوئی قانونی ممانعت ہمیں نظر نہیں آتی۔ ان قرآنی بیانات کی مثالیں درج ذیل ہیں۔
مکی دور کی دو سورتوں (معارج ۳۰:۷۰، مومنون۶:۲۳) میں ارشاد ہوتا ہے۔
’’اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں۔‘‘

یہ اس ضمن کی صریح ترین آیت ہے کہ بیویوں کے علاوہ لونڈیوں سے تعلق قائم رکھنے کو قرآن نے اپنے نزول کے وقت ہرگز نہیں روکا تھا۔ یہی صورتحال ہجرت مدینہ کے بعد رہی۔ جنگ احد میں جب بہت سے مسلمانوں کی شہادت ہوگئی اور ہر دوسرے گھر میں بیواؤں اور یتیموں کا مسئلہ پیدا ہوا تو قرآن مجید نے اس موقع پر عرب کے ایک اور رواج یعنی دوسری شادی کو بطور حل پیش کیا۔ مگر ایک سے زیادہ شادیوں میں یہ شرط لگا دی کہ چار سے زیادہ شادیاں نہ ہوں۔ ساتھ ہی تعدد ازواج کو عدل سے مشروط کر دیا۔ پھر فرمایا کہ اگر بیویوں میں عدل نہ کرسکو تو پھر ایک سے زیادہ بیوی نہیں کرسکتے، ہاں لونڈیوں سے تمتع البتہ جائز ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور اگر ڈر ہو کہ ان (بیویوں) کے درمیان عدل نہ کرسکو گے تو ایک ہی بیوی رکھو، یا پھر لونڈیاں جو تمھاری ملک میں ہوں‘‘،(النساء ۳:۴)
پچھلی آیات کی طرح یہاں بھی بیوی کے ساتھ علیحدہ سے لونڈی کا ذکر یہ واضح کرتا ہے کہ جو لونڈیاں اس وقت موجود تھیں قرآن نے ان سے مقاربت کو جائز قرار دیا تھا اور بیویوں کی طرح اس کے لیے نکاح کے کسی تعلق کو لازم قرار نہیں دیا تھا۔

اس ضمن میں قرآن مجید میں آخری آیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہے جس میں آپ کو تعداد ازواج اور عدل کی مذکورہ بالا شرائط سے آزاد قرار دیا گیا ہے جن کی پابندی عام مسلمانوں کے لیے ضروری تھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اے پیغمبر ہم نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیے ہیں حلال کر دی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو اللہ نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اگر اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لیے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہے لیکن) یہ اجازت خاص تم ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم کو معلوم ہے جو کچھ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے باب میں فرض کیا ہے۔ (یہ) اس لیے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

(اور تم کو یہ بھی اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو۔ اور جس کو تم نے علیحدہ کر دیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ (اجازت) اس لیے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو اسے لے کر سب خوش رہیں۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے۔ اور اللہ جاننے والا اور بردبار ہے۔

(اے پیغمبر) ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہاری مملوکہ ہوں۔ اور اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے ۔‘‘، (الاحزاب ۵۲۔۵۰: ۳۳)
اس آخری آیت میں جو پابندی لگائی ہے کہ اس متعین دائرے سے باہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی عورت حلال نہیں، اس میں بھی استثنا صرف لونڈیوں کا ہے کہ نکاح کے بغیر بھی آپ ان کو رکھ سکتے تھے۔

ان احکام و بیانات میں یہ بات واضح ہے کہ لونڈیوں سے تمتع کرنے کی اجازت علی الاطلاق بغیر کسی نکاح کے معاہدے کے صرف اس دور کے رواج کی بنا پر دی گئی ہے جس کے تحت ایک مرد کے لیے یہ جائز تھا کہ وہ محض حق ملکیت کی بنا پر لونڈی سے تعلق قائم کرے، جس طرح وہ نکاح کر کے ایک آزاد عورت سے تعلق قائم کرسکتا تھا۔

ابدی احکام
مرد و زن کے تعلق کے حوالے سے دوسری قسم کے احکام وہ ہیں جو قرآن مجید کی ابدی شریعت کا حصہ ہیں۔ ان احکام میں قرآن مجید نے یہ بتایا ہے کہ مرد و زن کس بنیاد پر باہمی تعلق قائم کرسکتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان مقامات پر صرف نکاح کے رشتے کا ذکر کرکے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ صرف یہی وہ تعلق ہے جس کی بنیاد پر ایک مرد و عورت مقاربت کرسکتے ہیں۔ ان مقامات پر لونڈیوں کا ذکر کیا ہی نہیں گیا اور جہاں کیا گیا ہے وہاں یہ ذکر نکاح کے حوالے سے ہے۔ یہ احکام درج ذیل ہیں۔
’’اور مشرک عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ ایک مومن لونڈی ایک (آزاد) مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمھیں بھلی لگے۔ اور مشرکوں کو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (اپنی عورتیں) نکاح میں نہ دو۔ ایک مومن غلام ایک مشرک سے بہتر ہے۔ اگرچہ وہ تمھیں بھلا لگے‘‘،(بقرہ ۲:۲۲۱)

یہ نکاح کے حوالے سے قرآن کا ایک اہم حکم ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کسی مشرک مرد یا عورت سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن صاف کہتا ہے کہ نکاح کے لیے ایک آزاد مشرک عورت سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ یہی معاملہ مومن غلام کا ہے کہ آزاد مشرک مرد سے بہتر ہے کہ ایک مومن غلام سے نکاح کا تعلق قائم ہو۔

سورہ مائدہ میں جب دین کا اتمام ہو رہا تھا اور شریعت کے آخری اور فیصلہ کن احکام دیے جارہے تھے تو وہاں اس حکم میں ایک رعایت یہ دی گئی کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ دیکھیے اس موقع پر لونڈیوں کا ذکر بالکل حذف کر دیا گیا ہے۔
’’آج تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں ہیں۔ ۔ ۔ اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جبکہ ان کا مہر دے دو۔‘‘،(مائدہ ۵: ۵)

مرد و زن کے تعلق کے ضمن میں بنیادی آیت سورہ نساء کی درج ذیل آیات ہیں۔ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کن خواتین سے نکاح حرام ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا (ایک رشتہ نکاح میں) اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہوچکا (سو ہوچکا) بے شک اللہ بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے۔

اور شوہر والی عورتیں بھی ( تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے جس کی پابندی لازمی ہے۔ اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو۔ ۔ ۔
اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور اللہ تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کرکے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو۔‘‘،(نساء ۲۵۔۲۳: ۴)

اس آیت میں دو جگہ لونڈیوں کا ذکر ہے اور دونوں جگہ نکاح کے حوالے سے۔ یعنی اگر کوئی آزاد شادی شدہ عورت بطور لونڈی جنگ میں ہاتھ آجائے تو پھر اسے نئے نکاح کے لیے پچھلے شوہر سے طلاق کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا سابقہ نکاح کالعدم تصور ہوگا۔ اسی طرح آگے وضاحت کی گئی ہے کہ ایک لونڈی سے اس کے مالک کی اجازت سے نکاح کیا جاسکتا ہے۔

قرآن مجید کے یہی وہ مقامات ہیں جن میں مرد و زن کے تعلق کو موضوع بنایا گیا ہے اور ان کے سرسری مطالعے سے بھی یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اسلامی شریعت جس کے احکام قیامت تک کے لیے ہیں جب مرد و زن کے تعلق کو موضوع بناتی ہے تو صرف اور صرف نکاح کو اس کی بنیاد ٹھہراتی ہے۔ لونڈی کی ملکیت یا کسی اور بنیاد پر مرد و زن کے تعلق کی کوئی مثال اسلام کے ابدی احکام میں نہیں۔

قرآن اور غلامی
اسلامی شریعت کے اس مدعا کی وضاحت کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیا سبب ہے کہ قرآن مجید نے اپنے نزول کے وقت لونڈیوں کے ساتھ مقاربت کو جائز قرار دیا۔ کیوں نہ ایسا ہوا کہ ایک حکم کے ذریعے سے لونڈی غلاموں کا رکھنا ہی حرام قرار دے دیا جاتا۔ اس کے برعکس نہ صرف پہلی قسم کے احکام قرآن میں پائے جاتے ہیں جن میں لونڈیوں سے مقاربت کی اجازت ہے بلکہ متعدد مقامات پر لونڈی غلاموں کا ذکرخادموں کی حیثیت سے بھی ہے۔ کیا واقعی ان احکام وبیانات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید غلامی کو برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ کیا یہ واقعی اس کی منشا تھی کہ مسلمان جنگیں کرکے دوسرے لوگوں کو لونڈی غلام بنائیں۔ دنیا بھر سے معصوم بچے، بچیوں اور بڑوں کو حضرت یوسف کی طرح اغوا کیا جائے اور مسلمانوں کے بازاروں میں ان کی نیلامی ہو۔ مسلمانوں کے غلام ان کے کھیت اور کارخانوں کو چلا رہے ہوں اور لاتعداد لونڈیاں ان کے حرم میں سامان عیش کے طور پر موجود ہوں۔

ہم پورے اطمینان اور اعتماد سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ قرآن مجید کی ہرگز ہرگز یہ منشا نہیں تھی۔ قرآن مجید نے نہ لوگوں کو لونڈی غلام بنانے کی اجازت دی اور نہ ایسا کوئی حکم کبھی دیا گیا۔ ہم پھر اس بات کو دہرانا چاہیں گے کہ قرآن مجید نے نہ لوگوں کو لونڈی غلام بنانے کی اجازت دی اور نہ ایسا کوئی حکم کبھی دیا گیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ غلامی کی لعنت ہزاروں برس سے انسانی معاشروں میں موجود تھی۔ قرآن مجید قطعی طور پر اس لعنت کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ مگر اس مقصد کے لیے اسلام نے انقلابی طریقہ اختیار نہیں کیا کہ ایک حکم سے ساری لونڈی غلاموں کو آزاد قرار دے دیا جائے۔

انقلابی تبدیلیوں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ جہاں ایک برائی کو ختم کرتی ہیں وہاں دس نئی برائیوں کو جنم دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام نے برائیوں کے خاتمے کے لئے بالعموم انقلاب (Revolution) کی بجائے تدریجی اصلاح (Evolution) کا طریقہ اختیار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں غلاموں کی حیثیت بالکل آج کے زمانے کے ملازمین کی تھی جن پر پوری معیشت کا دارومدار تھا۔ غلامی کے خاتمے کی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے اگر درج ذیل مثال پر غور کیا جائے تو بات کو سمجھنا بہت آسان ہو گا۔ خیال رہے کہ ہم اس مثال میں ملازمت کو غلامی جیسی برائی قرار نہیں دے رہے، بلکہ حکمت عملی کے پہلو سے ایک ایسی مثال پیش کر رہے ہیں جسے آج کا انسان باآسانی سمجھ سکتا ہے۔

ملازمت کی مثال
موجودہ دور میں بہت سے مالک (Employers) اپنے ملازمین کا استحصال کرتے ہیں۔ ان سے طویل اوقات تک بلامعاوضہ کام کرواتے ہیں، کم سے کم تنخواہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، بسا اوقات ان کی تنخواہیں روک لیتے ہیں، خواتین ملازموں کو بہت مرتبہ جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں آپ ایک مصلح ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ دنیا سے ملازمت کا خاتمہ ہوجائے اور تمام لوگ آزادانہ اپنا کاروبار کرنے کے قابل ہو جائیں۔ آپ نہ صرف ایک مصلح ہیں، بلکہ آپ کے پاس دنیا کے وسیع و عریض خطے کا اقتدار بھی موجود ہے اور آپ اپنے مقصد کے حصول کے لیے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

ان حالات میں آپ کا پہلا قدم کیا ہوگا؟ کیا آپ یہ قانون بنا دیں گے کہ آج سے تمام ملازمین فارغ ہیں اور آج کے بعد کسی کے لیے دوسرے کو ملازم رکھنا ایک قابل تعزیر جرم ہے؟ اگر آپ ایسا قانون بنائیں گے تو اس کے نتیجے میں کروڑوں بے روزگار وجود پذیر ہوں گے۔ یہ بے روزگار یقیناً روٹی، کپڑے اور مکان کے حصول کے لیے چوری، ڈاکہ زنی، بھیک اور جسم فروشی کا راستہ اختیار کریں گے، جس کے نتیجے میں پورے معاشرے کا نظام تلپٹ ہوجائے گا اور ایک برائی کو ختم کرنے کی انقلابی کوشش کے نتیجے میں ایک ہزار برائیاں پیدا ہوجائیں گی۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ ملازمت کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے تدریجی اصلاح کا طریقہ ہی کارآمد ہے۔ اس طریقے کے مطابق مالک و ملازم کے تعلق کی بجائے کوئی نیا تعلق پیدا کیا جائے گا۔ لوگوں میں یہ شعور پیدا کیا جائے گا کہ وہ اپنے کاروبار کو ترجیح دیں۔ انہیں کاروبار کرنے کی تربیت دی جائے گی۔ جو لوگ اس میں آگے بڑھیں، انہیں بلا سود قرضے دیے جائیں گے اور تدریجاً تمام لوگوں کو ملازمت کی غلامی سے نجات دلا کر مکمل آزاد کیا جائے گا۔

عین ممکن ہے کہ اس سارے عمل میں صدیاں لگ جائیں۔ ایک ہزار سال کے بعد، جب دنیا اس مسئلے کو حل کرچکی ہو تو ان میں سے بہت سے لوگ اس مصلح پر تنقید کریں اور یہ کہیں کہ انہوں نے فوری طور پر ایسا کیوں نہیں کیا، ویسا کیوں کیا مگر اس دور کے انصاف پسند یہ ضرور کہیں گے کہ اس عظیم مصلح نے اس مسئلے کے حل کے لیے تدریج کا فطری طریقہ اختیار کیا تھا۔ اور ایسا نہ کیا جاتا تو معاشرہ تباہ و برباد ہوجاتا۔

اب اسی مثال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم پر منطبق کیجیے۔ اسلام غلامی کا آغاز کرنے والا نہیں تھا، بلکہ وہ اسے ورثے میں ملی تھی۔ اسلام کو اس مسئلے سے نمٹنا تھا۔ عرب میں بلامبالغہ ہزاروں لونڈی غلام موجود تھے۔ وہ زندگی کے ہر میدان میں کام کر رہے تھے۔ اگر ان سب غلاموں کو ایک ہی دن میں آزاد کر دیا جاتا تو نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ نکلتا کہ ہزاروں کی تعداد میں طوائفیں، ڈاکو، چور، بھکاری وجود میں آتے جنہیں سنبھالنا شاید کسی کے بس کی بات نہ ہوتی۔ چنانچہ اسلام نے ایک تدریجی طریقے سے اس مسئلے کو حل کیا۔ اس ضمن میں جو اقدامات کیے گئے ان میں سے کچھ اہم یہ ہیں:

غلامی ختم کرنے کے اقدامات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو غلاموں کے ساتھ عمدہ برتاؤ کرنے کی تربیت دی۔ انہیں یہ حکم دیا کہ جو تم خود کھاؤ وہی انہیں کھلاؤ، جو خود پہنو، وہی انہیں پہناؤ اور ان کے کام میں ان کی مدد کرو۔ غلاموں کو اپنا بھائی سمجھو، ان کا خیال رکھو اور ان پر ظلم نہ کرو۔ اسی تربیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ اپنے غلاموں سے اچھا برتاؤ کرنے لگے اور ان کا معیار زندگی بلند ہوگیا۔ سیرت و روایات کے ذخیرہ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور ان کے غلام کو دیکھ کر یہ پہچاننا مشکل تھا کہ آقا کون ہے اور غلام کون ہے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا اپنے غلاموں سے بیٹوں کا سا سلوک کرتیں وغیرہ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو اعلیٰ اخلاقی تربیت دیں اور انہیں آزاد کر دیں۔ لونڈیوں کو آزاد کرنے کے بعد ان سے شادی کرنے کو ایسا کام قرار دیا جس پر اللہ تعالیٰ کے حضور دوہرے اجر کی نوید ہے۔ بعد کے دور میں ہمیں ایسے بہت سے غلاموں یا آزاد کردہ غلاموں کا ذکر ملتا ہے جو علمی اعتبار سے جلیل القدر علما صحابہ کے ہم پلہ تھے۔ ایک مثال سیدنا سالم رضی اللہ عنہ تھے جن کا شمار ابی بن کعب، عبد اللہ بن مسعود اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے۔

مثال قائم کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام غلام آزاد کیے یہاں تک کہ اپنی وفات کے وقت آپ کے پاس کوئی غلام نہ تھا۔ آپ کے جلیل القدر صحابہ کا بھی یہی عمل تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی دولت سے ایسے غلام خرید کر آزاد کیے جن پر ان کے مالک اسلام لانے کے باعث ظلم کرتے تھے۔ صحابہ کی تاریخ میں ایسے بہت سے غلاموں کا ذکر ملتا ہے جو آزاد کیے گئے تھے۔ ان کے حالات پر کئی کتابیں بھی لکھی گئیں جو کتب الموالی کہلاتی ہیں۔

دور جاہلیت میں آزاد کردہ غلاموں کو بھی کوئی معاشرتی مقام حاصل نہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں ان کے سابقہ مالکوں کا ہم پلہ قرار دیا۔

ایسے غلام جو آزادی کے طالب تھے، ان کی آزادی کے لیے قرآن نے "مکاتبت” کا دروازہ کھولا۔ اس کے مطابق جو غلام آزادی کا طالب تھا، وہ اپنے مالک کو اپنی مارکیٹ ویلیو کے مطابق قسطوں میں رقم ادا کر کے آزاد ہوسکتا تھا۔ صحابہ کرام ایسے غلاموں کی مالی مدد کرتے جو مکاتبت کے ذریعے آزاد ہونا چاہتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالک کو رقم ادا کر کے انہیں آزاد کروایا تھا۔ قرآن نے حکومتی خزانے میں سے ایسے غلاموں کی مالی امداد کا حکم دیا ہے۔ یہ وہ حکم تھا جس نے تدریجی اور قانون طریقے سے غلامی کی لعنت کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی۔

غلامی کی سب سے بڑی جڑ جنگی قیدی تھے جن کو غلام بنایا جاتا تھا۔ قرآن نے جنگی قیدیوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ یا تو انہیں بلامعاوضہ آزاد کر دیا جائے یا پھر ان سے جنگی تاوان وصول کر کے آزاد کیا جائے۔ اس طرح نئے غلام اور کنیزیں بننے کا سلسلہ رک گیا۔

ایک آخری سوال: غلامی ختم کیوں نہ ہوسکی
اس ضمن کا ایک آخری اور اہم ترین سوال یہ ہے کہ ان تمام اقدامات کے بعد بھی مسلم معاشرے میں غلامی ختم کیوں نہ ہوسکی۔ کیوں ایسا ہوا کہ بیسویں صدی تک عرب کے معاشرے میں لونڈی غلام بازاروں میں بکتے رہے؟

ہمارے نزدیک اس معاملے میں اصل سانحہ یہ ہوا کہ خلافت راشدہ میں جب عرب مسلمانوں نے عالم عجم کو فتح کیا، ان فتوحات کے نتیجے میں لاکھوں مربع میل پر پھیلی قیصر و کسریٰ کی عظیم سلطنتوں میں پائے جانے والے لاکھوں بلکہ کروڑں غلام اسلامی معاشرے میں ایک دم داخل ہوگئے۔ یہ واضح ہے کہ عرب معاشرے میں موجود ہزاروں غلاموں کو بیک جنبش قلم ختم نہیں کیا گیا تو یہ کام عجم کے لاکھوں غلاموں کے معاملے میں بھی ممکن نہ تھا۔ صحابہ کرام نے اپنی حد تک یہ کام جاری رکھا مگر اول ان کی اصل توجہ جہاد کی طرف رہی اور پھر خلافت راشدہ کے نصف آخر میں مسلمانوں کا باہمی خلفشار شروع ہوگیا۔ دوسری طرف وقت گزرنے کے ساتھ قرآن مجید کا فہم رکھنے والے اور اسلامی روح کو سمجھنے والے صحابہ کرام کی تعداد تیزی سے کم ہوتی گئی۔

یہاں تک کہ خلافت راشدہ کے بعد بنو امیہ کے دور میں جب باہمی جنگوں کا یہ سلسلہ تھما تو مسلم معاشرہ ملوکیت کی اجتماعی غلامی کا شکار ہوچکا تھا۔ جو معاشرہ اجتماعی غلامی کا شکار ہو وہ انفرادی غلامی کے لیے کیا کرسکتا تھا۔ چنانچہ سب نے غلامی کو ایک ناقابل تبدیل حقیقت کے طور پر قبول کرلیا اور رفتہ رفتہ غلامی کی لعنت کو مذہبی جواز بھی ملتا چلا گیا۔